History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu _top_ Jun 2026

یہ وہ فیصلہ کن دور ہے جہاں پاکستان کا خواب حقیقت کا روپ دھارنے لگا۔

4۔ شملہ وفد اور جداگانہ طریقہ انتخاب (1906ء - 1909ء)

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء کا دورانیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نوے سال سیاسی بیداری، مسلم قومیت کے ابھار، اور بالآخر ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کی جدوجہد پر مشتمل ہیں۔ ذیل میں اس طویل جدوجہد کے اہم ترین سنگِ میل تفصیلی نوٹس کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی۔

برصغیر کے مسلمانوں کی قومی و سیاسی بیداری کا سفر 1857 کی جنگ آزادی سے شروع ہو کر 14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام پر منتہی ہوا۔ اس نودے سالہ طویل عرصے میں مسلمانوں نے انگریزی استعمار اور ہندو بالادستی کے خلاف جو قربانیاں دیں، وہ تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ ذیل میں اس سفر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

جب 1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے اردو کے مقابلے میں ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا (اردو ہندی تنازع)، تو سر سید نے پہلی بار اعلان کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ اقوام ہیں جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

قائداعظم نے مسلمانوں کو متحد کیا اور انہیں احساس دلایا کہ وہ صرف اسی صورت میں ترقی کر سکتے ہیں جب وہ ایک الگ قوم کی صورت میں منظم ہوں۔ ان کے نعرے نے لاکھوں مسلمانوں کو بیدار کیا۔

لندن میں برصغیر کے سیاسی حل کے لیے تین کانفرنسیں ہوئیں لیکن ہندو ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام رہیں۔

انگریزوں نے ہندوستان کو تین گروپس میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔ مسلم لیگ نے عبوری طور پر اسے قبول کیا لیکن کانگریس کے مکر و فریب کی وجہ سے یہ ناکام ہو گیا۔ ۱۴. آزادی اور تقسیمِ ہند (۱۹۴۷ء) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

— علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے شمال مغربی ہندوستان میں ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ Slideshare 1931 سے 1947: قیامِ پاکستان کی منزل 1933: لفظ "پاکستان" کی تجویز

انگریزوں نے جنگ کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا۔ ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک

نہرو رپورٹ (۱۹۲۸ء) اور قائدِ اعظم کے ۱۴ نکات (۱۹۲۹ء)

برطانوی پارلیمنٹ نے اس قانون کی منظوری دی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

انگریز حکومت نے ایک نیا آئین نافذ کیا جس کے تحت صوبائی خودمختاری دی گئی اور اگلے ہی سال انتخابات کا اعلان ہوا۔

— بنارس سے شروع ہونے والا یہ تنازعہ جس میں ہندی کو اردو کی جگہ سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا، سر سید کے "دو قومی نظریے" کی بنیاد بنا۔ 1885: انڈین نیشنل کانگریس کا قیام

مسلم لیگ نے پاکستان کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اپنایا۔

کانگریسی وزارتیں اور مسلم لیگ کی مقبولیت (1937ء - 1939ء)

تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور انگریزی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ تحریک بھی ناکام ہوئی اور ترکی میں خلافت ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد ایک حصہ نے افغانستان کی طرف ہجرت کی جسے ہجرت تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے。